تعوّذ کے معنی ہیں
اَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ
پڑھنا ۔
فَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ فَاسْتَعِذْ بِاللهِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیمِ ۔
یعنی جب تم قرآن پڑھنے لگو تو الله تعالٰی کی پناہ مانگو شیطان مردود کے شر سے۔
تلاوتِ قرآن مجید سے پہلے تعوّذ پڑھنا باجماعِ امت " سنت " ہے خواہ تلاوت نماز کے اندر ہو یا باہر ۔
تعوذ پڑھنا تلاوتِ قرآن کے ساتھ مخصوص ہے ۔ علاوہ تلاوت دوسرے کاموں کے شروع میں صرف بسم الله پڑھی جائے گی ۔ تعوذ مسنون نہیں
اوّل۔۔۔ جب قرُان مجید کی تلاوت شروع کی جائے تو اس وقت اعوذ بالله اور بسم الله دونوں پڑھی جائیں
دوم ۔۔۔ تلاوتِ قرآن مجید کے درمیان میں جب ایک سورۃ ختم ہو کر دوسری سورۃ شروع ہو تو سورۃ توبہ کے علاوہ ہر سورۃ کے شروع میں دوبارہ بسم الله پڑھی جائے ۔
سوم ۔۔۔ اگر قرآن مجید کی تلاوت سورۃ توبہ ہی سے شروع کر رہے ہوں تو اس کے شروع میں اعوذ بالله اور بسم الله پڑھنی چاہئے۔
تعوُّذ۔ ۔۔۔۔۔ اَعُوذُ بِالله مِنَ الشَّیطٰنِ الَّرجِیمِ
اَعُوْذُ ۔ بِاللهِ ۔ ُ مِنَ ۔ الشَّیْطٰنِ ۔ الرَّجِیْمِ
میں پناہ مانگتا / مانگتی ہوں ۔ الله تعالٰی کی ۔ سے ۔ شیطان ۔ مردود
اَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّیطٰنِ الرَّجِیْمِ
میں الله تعالٰی کی پناہ مانگتا / مانگتی ہوں شیطان مردود سے
Introduction
In the journey of a believer, spiritual protection is as vital as physical safety. Every day, we face invisible battles against distractions, arrogance, and the subtle whispers that lead us away from peace. In Islam, the ultimate shield against these forces is Ta’awwuz—the act of reciting "A’uzu Billahi Minash Shaitanir Rajim." But this phrase is much more than just a ritualistic opening for prayer or Quranic recitation; it is a profound declaration of our need for Divine protection against an ancient and persistent enemy. In this post, we explore the deep spiritual meaning of seeking refuge, the historical roots of Satan’s enmity toward humanity, and why invoking Allah's name is the most powerful way to safeguard our hearts and minds from the whispers of the accursed.
