متّقیوں کی صفات ۔۔۔۳ ۔۔۔۔ مالی قربانی

Nuzhat Wasim
By -
0
وَ ۔               مِمَّا ۔            رَزَقْنٰھُمْ ۔     یُنْفِقُوْنَ     3⃣ لا 
اور ۔ اُس میں سے جو ۔ ہم نے انہیں دیا ۔ وہ خرچ کرتے ہیں 
وَ مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ  3⃣ لا 
اور جو کچھ ہم نے اُنہیں دیا اس میں سے خرچ کرتے ہیں ۔ 
رَزَقْنٰھُمْ ۔ ( ہم نے انہیں دیا ) ۔ یہ دو لفظ ہیں ۔ رَزَقْنَا  اور۔ ھُم 
رَزَقْنَا  رزق  سے نکلا ہے ۔ عربی میں یہ لفظ بہت سے معنوں میں استعمال ہوتا ہے  ۔ رزق سے مراد ہر قسم کی نعمتیں  ہیں ۔ خواہ ظاہری ہوں یعنی مال ، صحت ، اولاد وغیرہ  یا باطنی ہوں جیسے علم دانائی اور سمجھ وغیرہ ۔ مال الله تعالی کی بخشش میں سے ایک بہت بڑا عطیہ ہے ۔ 
اس سے یہ بھی ظاہر ہے کہ ہر چیز الله تعالی کی طرف سے ملتی ہے ۔ اور جو بھی نعمت انسان کو ملتی ہے الله تعالی کی عنایت سے ملتی ہے ۔ 
 یُنْفِقُونَ ۔ ( وہ خرچ کرتے ہیں ) ۔ یہ لفظ انفاق سے نکلا ہے ۔ جس کے معنی خرچ کرنا ہیں ۔ 
آیہ مبارکہ کے اس حصہ میں متّقی لوگوں کی تیسری صفت کا بیان ہے ۔ یعنی جو کچھ انہیں الله تعالی نے دے رکھا ہے ۔ وہ اس میں سے مناسب اور ضروری موقعوں پر جائز اور مفید کاموں میں خرچ کرتے ہیں ۔ الله تعالی کے راستے میں مال خرچ کرنا بڑی قربانی ہے ۔ بہت سے لوگ ایسے ہیں کہ جسمانی عبادت تو کرتے ہیں لیکن پیسہ خرچ کرنے کا نام نہیں لیتے ۔ اس قسم کی کنجوسی دُنیا اور آخرت دونوں جہانوں میں نقصان دہ ہے ۔ 
جب انسان کے عزیز واقارب ،  والدین اور رشتہ دار اس کی طرف رجوع کرتے ہیں کہ ان کی ضرورتوں میں اُن کی مدد کرے اور کنجوس انکار کرتا ہے ۔ تو وہ سخت دکھی ہو جاتے ہیں اس کے علاوہ جب معاشرے میں حاجتمندوں ، یتیموں اور بے کسوں ، غریبوں کی مدد کا دستور نہیں رہتا ۔ اور قوم کی درستی ۔ عوام کی بہبودی اور دشمن کے دفاع میں خرچ نہیں کیا جاتا تو ساری قوم مصیبت میں پڑ جاتی ہے ۔ اور آخر کار افرادی دولت بھی ختم ہو جاتی ہے ۔ 
 آخرت کی زندگی میں کنجوسی کا یہ انجام ہوتا ہے کہ جب دِل میں مال کی محبت بھر جاتی ہے اور موت کے وقت جسم روح کا ساتھ چھوڑتی ہے ۔ تو وہ مال کی محبت میں بڑی بے چین رہتی ہے ۔ اور یہ غیر ضروری محبت اُس جہان میں سانپ ، بچھو اور آگ کی صورت میں ظاہر ہو کر عذاب کی شکل اختیار کر لیتی ہے ۔ اس لئے الله تعالی نے انسانوں کو یہ تعلیم دی ہے کہ دین ودُنیا کی کامیابیوں کے لئے ضروری ہے کہ یہاں مالی قربانی کرو ۔ اور اسی طرح اس کی دی ہوئی قوّتوں ، صلاحیتوں اور کامیابیوں کو لوگوں کی خدمت میں خرچ کرو ۔ 
 ہمارا فرض ہے کہ اپنی تمام کوششوں ، قوتوں صلاحیتوں اور مال ودولت کو عام لوگوں کی خدمت میں لگانے سے پیچھے نہ ہٹیں ۔ اپنی ہمت کے مطابق بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اس میں ملک اور قوم کا بھی بھلا ہے اور اسی میں ہم سب کا فائدہ ہے ۔ 
یُنْفِقُونَ ۔۔۔ میں ہر قسم کا وہ خرچ شامل ہے جو الله کی راہ میں کیا جائے ۔ خواہ فرض زکٰوۃ ہو یا دوسرے واجب صدقات یا نفلی صدقات و خیرات وغیرہ ۔ اسی طرح انسان کی قوتیں ، صلاحیتیں ، ہمدردی وغیرہ کہ سب کچھ اُسی کا عطا کردہ ہے ۔ الله جل شانہ سے دُعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی عطا کردہ نعمتوں میں سے خوب خرچ کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ اور نفس کی کنجوسی سے بچائے ۔ آمین 
         جان دی دی ہوئی اُسی کی تھی 
         حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا 
درس قرآن ۔۔۔ مرتبہ درس قرآن بورڈ 
معارف القرآن 



ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے

Please Select Embedded Mode To show the Comment System.*