دوسرے پارے کے اسباق کا خلاصہ

Nuzhat Wasim
By -
0
دوسرے پارے کے اسباق کا خلاصہ

پہلے پارے کی ابتداء سورۃ فاتحہ سے ہوئی ۔ اس میں پورے کلام الله کا خلاصہ ہے ۔ اس کے بعد سورۃ بقرہ کی ابتداء میں کلام مجید کی حیثیت ۔۔ مؤمن  ،  کافر اور منافق جماعتوں کا ذکر تھا ۔ اس کے بعد خلافتِ آدم ۔۔ بنی اسرائیل کی تاریخ ۔۔۔ حضرت ابراھیم علیہ السلام اور ان کے خاندان کا بیان ہوا اور ساتھ ساتھ بہت سے مسائل کا ذکر ہوا ۔ 
دوسرے پارے کی ابتداء میں ملتِ اسلامیہ کے مقصدِ حیات اور فرائضِ ملی کا ذکر ہوا کہ یہ ملّت دنیا کی نگران بنائی گئی ہے ۔ اس کے فورا بعد تحویلِ قبلہ کا بیان ہوا نیز یہ کہ قبلہ کا مقصد پوری ملّت کو ایک مرکز پر جمع  کرنا ہے ۔
تیسرے رکوع میں شھادت اور شھیدوں کا درجہ بتلایا اور اس کے فوراً بعد توبہ کا طریقہ اور شرائط بتائیں ۔ چوتھے اور پانچویں رکوع میں حلال و حرام غذاؤں اور باپ دادوں کی رسموں کی طرف توجہ دلائی ۔ 
چھٹے رکوع کی پہلی آیت میں " نیکی " کا ایک جامع تصور دیا گیا ۔ اس کے بعد قصاص ، وصیت ، روزہ رمضان ، دعا اور اعتکاف کے مسائل کا ذکر نہایت خوبصورتی سے موجود ہے 
آٹھویں ، نویں اور دسویں رکوع میں قتال فی سبیل الله اور حج کے مسائل بیان ہوئے اور درمیان میں کئی دوسرے مسائل بھی آگئے ۔ 
اس کے بعد انفاق فی سبیل الله کا ذکر ہوا ۔ شراب کی حرمت ۔۔۔ اہلِ شرک سے نکاح کی ممانعت کا حکم ہوا ۔ اہلِ کتاب کا بھی ذکر آیا ۔ 
بعد ازاں مسلسل چار رکوع یعنی بارہ سے پندرہ  تک ازدواجی زندگی کے مسائل سے متعلق ہیں ۔ مثلاً حیض و نفاس  ، طلاق ، عدت ، مہر ، رضاعت اور دوسرے متعلقہ مسائل 

دوسرے پارے کے آخری دو رکوع یعنی نمبر سولہ اور سترہ میں بنی اسرائیل کی تاریخ کا ایک اہم واقعہ مذکور ہے ۔ یعنی جالوت کے مقابلے میں حضرت طالوت کی لشکر کشی ۔ حضرت داود علیہ السلام کی سر فروشی ۔۔ حق پرستوں کی شاندار کامیابی  اور باطل کی رُسوا کن شکست 

ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے

Please Select Embedded Mode To show the Comment System.*