رحمٰن و رحیم

Nuzhat Wasim
By -
0
اَلرَّحْمٰنِ ۔                                             الرَّحِیمِ ۔ 2⃣
بہت زیادہ رحم کرنے والا ( اسم مبالغہ ) ۔  بہت بڑا مہربان  ( اسم مبالغہ )  ۔
اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ۔ 2⃣ لا
جو نہایت رحم کرنے والا بہت مہربان ہے ۔ 
الرَّحمٰنِ الرَّحیمِ ۔ یہ دونوں الله تعالی کی صفات ہیں ۔ رحمان کے معنی  عامُ الرّحمہ ( جس کی رحمت سارے عالم وکائنات پر حاوی اور شامل ہو ) ۔ اور رحیم کے معنی تام الرّحمہ ( جس کی رحمت کامل اور مکمل ہو )  ۔۔۔۔
رحمٰن ۔۔۔ یعنی بہت زیادہ رحم کرنے والا ہے ۔ انسان جب دنیا میں آتا ہے ۔ تو وہ جسمانی اور روحانی بلاؤں میں گرفتار ہوتا ہے ۔ اُسے سینکڑوں چیزوں کی ضرورت پڑتی ہے ۔ اس دُنیا میں مومن وکافر ، اچھے بُرے سب رہتے ہیں ۔ انسان ، حیوان ، چرند پرند ، کیڑے  مکوڑے ، نباتات غرض جتنی بھی مخلوق جہاں جہاں موجود ہے ۔ سب کو الله تعالی کی رحمت کی ضرورت پڑتی ہے ۔ اس لئے الله جل شانہ نے اپنی صفت رحمان بتائی ۔ یعنی وہ بلا تمیز اپنی تمام مخلوق پر رحمت برساتا ہے ۔ کسی کو اپنے انعامات سے محروم نہیں کرتا  اور بغیر مانگے نعمتیں عطا فرماتا ہے ۔
رَحِیْمٌ ۔۔۔ یعنی  بڑا مہربان ۔ اس لفظ سے اس نے بتایا  ۔ کہ الله تعالی لوگوں کو اُن کے حق سے بہت زیادہ عطافرماتا ہے ۔ جو اُس کے احکامات کی پیروی کریں گے ۔ اُن پر خاص انعامات فرمائے گا ۔  اس نام کو آخر میں لانے سے ہمیں یہ بھی بتا دیا کہ اس دُنیا کے بعد ایک دوسری دُنیا آئے گی ۔ اور جب ہم یہاں سے کوچ کر کے دوسرے جہان میں جائیں گے ۔ تو ہمارے ایمان اور عمل کے لحاظ سے ہم پر الله تعالی کی خاص رحمت کا ظہور ہو گا ۔  رحمان اسکی صفت ِ عام ہے ۔ اور رحیم اُس کی صفتِ خاص ہے ۔ 
رحمٰن ہونے کی صورت میں اُس نے ہماری ہر حاجت کو پورا کرنے کا سامان کر دیا ۔ زمین و آسمان پیدا کئے ۔ سورج ، چاند اور ستارے بنائے ۔ دریا اور سمندر بہائے ۔ جنگل پھیلائے اور پہاڑ کھڑے کئے ۔ نباتات اور جمادات ، حیوانات پیدا کئے ۔ اپنی رحمت کا سایہ والدین کے دل پر ڈالا ۔ کہ وہ اولاد سے بے غرض اور دلی محبت کرتے ہیں ۔ اولاد کو ہر طرح کا آرام پہنچاتے ہیں ۔ بہن بھائیوں میں محبت کا جذبہ رکھا ۔لوگوں میں انسانیت کا درد اور احساس پیدا کیا ۔ الله کے یہ انعام مسلمان  اور کافر سب کے لئے یکساں ہیں ۔ نیک اور بد کی کوئی تمیز نہیں ۔
رحیم۔ ہونے کی صورت میں الله تعالی ہمارے نیک کاموں کا اجر زیادہ سے زیادہ دیتا ہے ۔ اور اس دُنیا کے بعد بھی ہمیں اپنی رحمت میں ڈھانپ لے گا ؟ اور جنت کا وارث بنائے گا ( ان شاء الله ) ۔ وہ چھوٹے چھوٹے کاموں کے  بڑے بڑے نتائج پیدا فرماتا ہے ۔ معمولی معمولی نیکیوں کے اجر زیادہ سے زیادہ دے گا ۔ 
الله جلَّ شانُہ کی ان صفتوں سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے ۔ کہ ہم بھی اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ شفقت سے پیش آئیں ۔ اُن کی جو ضرورت ہم پوری کر سکتے ہوں ۔ اُن کی مدد کریں ۔ اور اُن کی لغزشوں سے درگزر کریں ۔ تاکہ دنیا میں الله تعالی کی ان صفات کا اظہار ہو ۔ اور اس کی مخلوق راحت حاصل کرے  ۔۔۔۔
 مسئلہ ۔۔۔۔۔ لفظ رحمان الله جلّ شانہ کی ذات کے ساتھ  مخصوص ہے ۔ لفظ الله کی طرح اسکا بھی تثنیہ اور جمع نہیں آتا ۔ کیونکہ  رحمان ایک ہی ذات کے لئے مخصوص ہے ، دوسرے اور تیسرے کا وہاں احتمال ہی نہیں ۔ اس سے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ آجکل عبد الر حمٰن ، فضل الرحمٰن  وغیرہ ناموں کو مختصر کر کے رحمٰن کہتے ہیں یہ نا جائز اور گناہ ہے ۔ البتہ لفظ رحیم انسان کے لئے بھی بولا جا سکتا ہے ۔ کیونکہ اس کے معنی میں کوئی ایسی چیز نہیں  ۔ ہو سکتا ہے کوئی شخص دوسرے سے پوری رحمت کا معاملہ کرے ۔ الله تعالی نے قرآن کریم میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے لئے یہ لفظ استعمال فرمایا ہے ۔ 
بِالْمُؤمِنِیْنَ رَؤُفٌ رَّحِیْمٌ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


ماْخذ ۔۔۔۔
درسِ قرآن ۔۔۔ مرتّبہ درسِ قرآن  بورڈ
معارف القرآن ۔۔۔۔ حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمۃ الله علیہ

ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے

Please Select Embedded Mode To show the Comment System.*