*پارہ~~~19~~~وَقَالَ الّذِیْنَ*


مشرکین کے دو مطالبوں کا جواب ہے، 
ایک تو یہ کہ فرشتہ صرف محمد علیہ السلام پر ہی کیوں اترتا ہے ہم پر کیوں نہیں اترتا
 اور اللہ تعالیٰ ہم سے کیوں ملاقات نہیں کرتے؟
 قرآن کریم نے اس کا جواب دیا کہ اس مطالبہ کی وجہ تکبر و سرکشی ہے اور قیامت کا انکار ہے۔ عام انسانوں پر فرشتوں کے اترنے کا مطلب ہوتا ہے کہ ان کا یوم احتساب آ گیا، جس دن بادل پھٹیں گے اور فرشتے اتریں گے اس دن مجرمین کے لئے کوئی اچھی خبر نہیں ہو گی، ان کے اعمال فضاء میں تحلیل ہو کر رہ جائیں گے۔ کافروں پر وہ دن بہت بھاری ہو گا۔ ظالم افسوس اور ندامت سے اپنا ہاتھ چبا رہے ہوں گے، اس دن ایک اللہ کے علاوہ کسی کا حکم نہیں چلے گا۔ رسول علیہ السلام شکوہ کریں گے کہ میری قوم نے اس قرآن کو پس پشت ڈال دیا تھا۔
 دوسرا اعتراض یہ ہے کہ قرآن تھوڑا تھوڑا کر کے کیوں نازل ہو رہا ہے؟ ایک دم سارا کیوں نازل نہیں ہو جاتا۔
 اللہ تعالیٰ نے حاکمانہ انداز میں فرمایا: ہم قادر مطلق ہیں، ہم اسی طرح نازل کریں گے پھر حکیمانہ توجیہ بیان کر دی، آپ کے قلبی اطمینان کے لئے اور ٹھہر ٹھہر کر تلاوت کرنے اور ہر موقع کی بہترین تشریح و توضیح کے لئے ہم نے ایسا کیا ہے۔ 
پھر موسیٰ و ہارون کا تذکرہ کر کے بتایا کہ ہم نے منکرین توحید و رسالت فرعونیوں کو ہلاک کر کے رکھ دیا، 
پھر نوح علیہ السلام اور ان کی جھٹلانے والی قوم کے سیلاب میں غرق ہونے کا تذکرہ پھر قوم عاد و ثمود اور ان کے علاوہ بہت سی اقوام کی ہلاکت کا تذکرہ پھر یہ بتایا کہ یہ لوگ ہمارے نبی کا انکار کرتے اور ان کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اس قسم کی حرکتیں وہ لوگ کرتے ہیں جو خواہشات کو اپنا معبود بنالیں اور عقل و شعور سے کام لینا چھوڑ دیں، یہ لوگ جانور ہیں بلکہ ان سے بھی بدتر ہیں۔ 
یہ لوگ کائناتی شواہد اور واقعاتی دلائل میں غور کر کے دیکھیں کہ سورج کی نقل و حرکت سائے کو کس طرح بڑا چھوٹا کرتی ہے۔ رات انسانوں کو ڈھانپ لیتی ہے اور نیند تھکن کو ختم کر کے سکون کا باعث بنتی ہے اور دن چلنے پھرنے اور روزی کمانے کا ذریعہ ہے۔ بارش سے پہلے ٹھنڈی ہوائیں پانی برسنے کا پیغام لے کر آتی ہیں اور آسمان سے صاف ستھرا پانی برستا ہے جو مردہ زمین کی زندگی کا باعث بنتا ہے اور بے شمار انسانوں اور جانوروں کو سیراب کر دیتا ہے۔ 
ہم اسی طرح مختلف انداز اور اسالیب سے بات کرتے ہیں تاکہ وہ لوگ سمجھ کر نصیحت حاصل کرسکیں۔ لیکن پھر بھی اکثر لوگ انکار پر اتر آتے ہیں۔ آپ ان کی اطاعت نہ کریں بلکہ قرآن کریم کی روشنی میں ان کے ساتھ جہاد کرتے رہیں۔ یہ بھی اللہ کی قدرت کا مظاہرہ ہے کہ میٹھے اور کھارے پانی کی لہریں ایک ساتھ چلتی ہیں۔ اسی اللہ نے پانی سے انسانی زندگی کو تخلیق فرما کر اس کے نسبی اور سسرالی رشتہ بنا دیئے اور تیرا رب ہر چیز پر قادر ہے۔ 
اس کے بعد بے اختیار معبودوں کو قابل عبادت سمجھنے کی مذمت اور رسول کے فرض منصبی ’’نذیر و بشیر‘‘ ہونے کا بیان، کسی بھی قسم کے مفادات سے بالاتر ہو کر قرآنی تعلیمات کو عام کرنے کا حکم اور دائمی حی و قیوم ذات کی تسبیح و تحمید اور اسی پر توکل کی تلقین ہے اور آیت نمبر ۶۴ سے سورت کے اختتام تک ’’عبادالرحمن‘‘ کی خوبیاں اور صفات بیان کی ہیں 
کہ وہ تواضع اور انکساری کے خوگر اور جاہلوں سے کنارہ کش رہتے ہیں۔ ان کی راتیں تہجد میں گزرتی ہیں اس کے باوجود جہنم سے پناہ مانگتے ہیں۔ فضول خرچی اور بخل سے دور رہتے ہیں۔ توحید کے علمبردار، شرک سے بالاتر اور بے گناہ معصوموں کے قتل سے باز رہنے والے، اپنے گناہوں پر توبہ کر کے اپنے قصور کا اعتراف کرنے والے۔ ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ معاف فرما کر ان کے گناہوں کو بھی نیکیوں میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ وہ لوگ بے مقصد زندگی نہیں گزارتے۔ ناجائز کاموں اور جھوٹی گواہی دینے سے بچتے ہیں۔ اپنے رب کی باتوں پر سوچ سمجھ کر قدم اٹھاتے ہیں۔ وہ اپنے بیوی بچوں سمیت ایسی زندگی اختیار کرنے کے لئے دعا گو رہتے ہیں جو آنکھوں کی ٹھنڈک بنے اور متقیوں میں سر فہرست رہنے کے متمنی رہتے ہیں۔ انہی لوگوں کو جنت میں سلامیاں دی جائیں گی اور جنت کے بالا خانے ان کا مقدر ہوں گے۔ 
سورت کے آخر میں اللہ تعالیٰ کی شان استغناء کا بیان ہے کہ اگر تم مشکلات و مصائب میں اللہ کے سامنے رونے دھونے اور گِڑ گڑانے میں مشغول نہ ہوتے تو اللہ تعالیٰ تمہاری قطعاً کوئی پرواہ نہ کرتے اور دنیا میں ہی تمہیں ہلاک کر کے رکھ دیتے

               *سورہ الشعراء*

سورت کے آخر میں شعراء اور ان کی ذہنیت کا تذکرہ ہے، اس لئے پوری سورت کو شعراء کے نام سے معنون کر دیا گیا ہے۔ یہ مکی سورت ہے اور اس میں دوسو ستائیس آیتیں اور گیارہ رکوع ہیں۔ اس سورت کا مرکزی مضمون اثبات رسالت ہے۔ انبیاء علیہم السلام کے واقعات اور ان کے منکرین کے انجام سے اس مضمون کو تقویت دی گئی ہے۔ 
سورت کی ابتداء میں قرآن کریم کے برحق اور واضح کتاب ہونے کا اعلان اور حضور علیہ السلام کی انسانیت کی ہدایت کے لئے شدت حرص کا بیان ہے۔ اللہ اگر چاہیں تو ان کی مطلوبہ نشانیاں دکھا کر ان کی گردنیں جھکا سکتے ہیں مگر اسلام کے لئے کسی پر زبردستی اور جبر نہیں کیا جاتا۔ ان جھٹلانے اور استہزاء و تمسخر کرنے والوں کے ساتھ سابقہ قوموں والا معاملہ کرنا اللہ کے لئے کوئی مشکل نہیں ہے۔ انہیں پہلی قوموں کے حالات میں غور کر کے اس سے درس عبرت حاصل کرنا چاہئے۔ 
پھر قرآن کریم نے اکثریت  اور اقلیت  کے نظریہ کا بطلان واضح کرنے کے لئے آٹھ مرتبہ اسی بات کو دہرایا اور ہر نبی کے تذکرہ کے آخر میں کہا ہے کہ اچھے اور پاکباز کبھی بھی اکثریت میں نہیں رہے اور معرکۂ حق و باطل میں نصرت خداوندی حق کے ساتھ ہوا کرتی ہے، اگرچہ وہ اقلیت میں ہو اور باطل کو تباہ کر دیا جاتا ہے اگرچہ وہ اکثریت میں ہو۔
 اس حقیقت کو قصۂ موسیٰ و فرعون میں آشکارا کیا، پھر ابراہیم علیہ السلام اور ان کی قوم کے ساتھ ان کی باطل شکن اور ایمان افروز گفتگو میں واضح کیا اور بتایا کہ انسانی طبیعت کا یہ تقاضا ہے کہ اپنے محسن کو فراموش نہ کرے۔
 اللہ نے انسان کو عدم سے وجود بخشا اس کی موت و حیات، بیماری و صحت اور کھانا پینا سب اس کی عنایات کا مظہر ہے۔ قیامت کے دن مال و اولاد کسی کام نہیں آ سکیں گے۔ وہاں تو ’’قلب سلیم‘‘ کے حامل متقی انسان ہی نجات پا سکیں گے۔ ابلیس اور اس کا پورا لشکر قیامت کے دن اپنی ناکامیوں اور نامرادیوں پر نوحہ کناں ہو گا انہیں وہاں پر کوئی سفارشی اور حمایتی میسر نہیں آئے گا۔ 
پھر نوح علیہ السلام اور ان کی قوم کے درمیان توحید و شرک کا معرکہ اور اس میں اہل ایمان کی اقلیت کی کشتی میں نجات اور اہل کفر و شرک کی اکثریت کی پانی کے سیلاب میں غرقابی اس نظریہ کو واضح کر دیتی ہے کہ تعداد کی کثرت کامیابی کی ضامن نہیں بلکہ اعمال کی صورت و حسن حقیقی کامیابی کی ضامن ہے۔ 
پھر قوم عاد، ان کی طاقت و قوت، صنعت و حرفت میں ان کی ترقی کے باوجود اپنے نبی ہود علیہ السلام کی دعوت کا انکار اور تکذیب ان کی تباہی کا باعث بنا اور دنیوی وسائل ان کے کسی کام نہ آ سکے اور ہود علیہ السلام ان کے ساتھیوں کی وسائل سے محرومی عذاب خداوندی سے نجات کے راستہ میں رکاوٹ نہ بن سکی۔

پھر قوم ثمود اور ان کے فرستادہ نبی صالح علیہ السلام کے درمیان معرکہ حق و باطل۔ باغات اور کھیتوں کی سرسبزی و شادابی، سنگتراشی کی ٹیکنیک میں ان کی مہارت اور ان کی بستی میں امن و امان کی مثالی حالت بھی نبی کے مقابلہ میں انہیں عذاب الٰہی سے نہ بچا سکی اور مفسدین کی اکثریت کو تباہی سے دوچار کر کے مومنین کی اقلیت کو اللہ نے بچا لیا۔ پھر لوط علیہ السلام اور ان کی فحاشی و عیاشی میں ڈوبی ہوئی قوم کے درمیان شرافت و شیطنت کے معرکہ میں لوط علیہ السلام کی کامیابی اور ان کے مخالفین کی عبرتناک ہلاکت نے شریف اقلیت کو شریر اکثریت پر غلبہ کی نوید سنادی ہے۔
پھر شعیب علیہ السلام کا مقابلہ ایک مستحکم معیشت و تجارت کی حامل قوم کے ساتھ۔ جس میں ایک طرف ناپ تول میں کمی، جھوٹ اور فساد کی گرم بازاری اور دوسری طرف امانت و دیانت اور صدق و صلاح کے ساتھ وسائل سے محروم اقلیت کی کامیابی و کامرانی اہل حق کے لئے نصرت خداوندی اور اہل باطل کے لئے آسمانی پکڑ کا واضح اعلان ہے۔

پھر قرآن کریم کے ’’کلام رب العالمین‘‘ ہونے کا واشگاف اعلان، امانت دار فرشتے جبریل کے ذریعہ اس کا نزول، واضح عربی زبان میں اس کی ترکیب و تنسیق اور پہلی کتابوں میں اس کے کلام برحق ہونے کی بشارتوں کے باوجود مشرکین مکہ کی طرف سے اس کا انکار ان کے تعصب اور مجرمانہ ذہنیت کا آئینہ دار ہے۔
 ایک لمبے زمانہ تک بھی اگر یہ لوگ دنیا کی عارضی نعمتوں میں سرشار رہیں تب بھی یہ عذاب خداوندی سے کسی طرح نہیں بچ سکیں گے۔ اصلاح کے عمل کا آغاز اپنے گھر اور خاندان سے کیا جائے۔ 
اللہ پر توکل اور اس کے سامنے ’’جبین نیاز‘‘ جھکا کر رکھنا کامیابی کی دلیل ہے۔
قادر الکلام دانشوروں اور شعراء نے اسلامی نظام کے راستہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے میں نہایت شرمناک مکروہ کردار ادا کیا تھا۔ قرآن کریم ان کی مذمت کرتے ہوئے کہتا ہے کہ شعراء کی پیروی کرنے والے گمراہ لوگ ہوتے ہیں کیونکہ شاعر ہر وادی میں سرگرداں اور ہر کھیت میں منہ مارنے کے عادی ہوتے ہیں۔ 
البتہ ان میں ایمان و اعمال صالحہ اور اللہ کے ذکر سے سرشار لوگ بھی ہوتے ہیں جو اپنے شاعرانہ کلام سے مظلومین کے ساتھ معاون اور ان کا حق دلانے میں مددگار ہوتے ہیں اور آخر میں ظالموں کو ان کے عبرتناک انجام پر متنبہ فرما کر سورت کو ختم کر دیا گیا۔
 
               *سورہ النمل*

مکی سورت ہے، اس میں ترانوے آیتیں اور سات رکوع ہیں۔
 سورت کی ابتداء میں قرآن کریم کے اہل ایمان کے لئے بشارت اور ہدایت کی واضح کتاب ہونے کا اعلان ہے۔ پھر منکرین آخرت کے انجام بد کی نوید سنائی گئی ہے۔ اس کے بعد قصۂ موسیٰ و فرعون کی شکل میں معرکۂ حق و باطل کو دل آویز اختصار کے ساتھ بیان کر کے بتایا کہ اللہ اپنے بندوں کی مدد کرتے ہیں اور انہیں خوف اور ہر قسم کی مشکلات سے بچاتے ہیں جبکہ ظالموں کو عبرتناک انجام سے دوچار کرتے ہیں۔
 پھر داؤد و سلیمان علیہما لسلام کے واقعہ کی شکل میں اقتدار و بادشاہت اور نبوت و رسالت کے حسین امتزاج اور مادی و روحانی ترقی کے بام عروج پر پہنچ کر بھی عبدیت و ایمان کے روح پرور مناظر کو بیان کیا ہے۔

دونوں باپ بیٹوں کو بے پناہ وسائل، جنات پر حکمرانی اور پرندوں کی گفتگو سمجھنے کا سلیقہ بھی عطاء کیا گیا تھا۔ سلیمان علیہ السلام ایک مرتبہ جن و انس اور پرندوں پر مشتمل اپنے لشکر کے ساتھ جا رہے تھے کہ ’’وادی النمل‘‘ چیونٹیوں کے علاقہ سے ان کا گزر ہوا۔ ایک چیونٹی کے متوجہ کرنے پر چیونٹیاں اپنے بچاؤ کے لئے بلوں میں گھسنے لگیں تو حضرت سلیمان علیہ السلام اس منظر سے بہت محظوظ ہوئے اور اللہ کا شکر بجا لاتے ہوئے اس کی رحمت کے طلبگار ہوئے۔ 
پھر ہدہد پرندہ کے ذریعہ موصول ہونے والی خبر پر ملک سباء کے سورج پرست عوام اور ان کی ملکہ بلقیس کے نام حضرت سلیمان علیہ السلام کے خط کے تذکرہ کے ساتھ ہی حضرت سلیمان کی جاہ و حشمت اور وسائل کی فراوانی کو بیان کر کے بتایا گیا ہے کہ قوم سباء کے نخوت و تکبر کے مقابلہ میں سلیمان علیہ السلام کی عجز و انکساری کو فتح نصیب ہوئی۔ 
حضرت سلیمان کے وزیر صاحب علم نے ملکہ سباء کا تخت پلک جھپکتے میں منتقل کر دیا اور ملکہ بلقیس دربار سلیمانی میں حاضر ہو کر آپ کی شان و شوکت سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکی اور کلمہ پڑھ کر حلقہ بگوش اسلام ہو گئی۔ پھر قوم ثمود اور ان کے نبی صالح علیہ السلام کے روپ میں اسلام اور کفر کا معرکہ وسائل و انتظامات کے مقابلہ میں ایمان و اعمال صالحہ کی جیت کو بیان کیا گیا ہے۔ 
پھر قوم لوط اور ان کی بدکرداری کے مقابلہ میں اللہ کے نبی لوط علیہ السلام کی فتح اور نا فرمانوں کی تباہی کی منظر کشی کی گئی ہے۔اور پارہ کے آخر میں اللہ کی حمد و ثناء اور منتخب بندگانِ خدا پر سلامتی کی نوید سنائی گئی ہے اور معبود حقیقی اور معبودان باطل میں تقابلی مطالعہ کے ذریعہ حق تک رسائی حاصل کرنے کی راہ سجھائی گئی ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

حالیہ اشاعتیں

مقوقس شاہ مصر کے نام نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کا خط

سیرت النبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم..قسط 202 2.. "مقوقس" _ شاہ ِ مصر کے نام خط.. نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک گرامی ...

پسندیدہ تحریریں